حضرت عباس علمدار علیہ السلام – وفاداری، شجاعت اور قربانی کی لازوال داستان

حضرت عباس علمدار علیہ السلام – وفا، شجاعت اور قربانی کی علامت

https://shawaizmedia.blogspot.com/?m=1
یہ غازی عباس علمدار علیہ السلام


وہ عظیم شخصیت جن کی وفاداری، بہادری اور قربانی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی گئی ہے۔


نام و نسب

حضرت عباس علیہ السلام، جو "باب الحوائج" اور "علمدار کربلا" کے نام سے معروف ہیں، 4 شعبان 26 ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور والدہ حضرت فاطمہ کلابیہ (ام البنین سلام اللہ علیہا) تھیں۔ آپ کا تعلق قبیلہ بنی کلاب سے تھا، جو بہادری، وفاداری اور جرات میں معروف تھا۔


بچپن اور تربیت

حضرت عباس علیہ السلام کا بچپن ایک عظیم خانوادے میں گزرا، جہاں عدل، انصاف، تقویٰ، اور وفا کی تربیت ملی۔ آپ نے اپنے والد حضرت علی علیہ السلام سے شجاعت و بہادری سیکھی، جبکہ اپنی والدہ ام البنین سلام اللہ علیہا سے وفاداری اور ایثار کا درس حاصل کیا۔ آپ کے بھائی امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام نے آپ کو معرفت و بصیرت کی اعلیٰ منازل تک پہنچایا۔


حضرت علی علیہ السلام کی تربیت

حضرت علی علیہ السلام نے حضرت عباس علیہ السلام کو صرف جنگی مہارت ہی نہیں سکھائی، بلکہ انہیں صبر، حلم اور اخلاقیات کا بھی درس دیا۔ حضرت عباس علیہ السلام کی شخصیت میں ان تمام خوبیوں کا عکس نظر آتا ہے۔


حضرت عباس علیہ السلام کی شجاعت

حضرت عباس علیہ السلام کی بہادری مثالی تھی۔ آپ نے کئی جنگی فنون میں مہارت حاصل کی اور اپنی طاقت و جرات کی دھاک بٹھا دی۔ آپ کے ہاتھ میں علم (پرچم) ہوتا تھا، جو آپ کی قیادت اور بہادری کی علامت تھا۔


مختلف معرکوں میں شرکت

اگرچہ حضرت عباس علیہ السلام کو عملی طور پر میدان جنگ میں شرکت کا زیادہ موقع نہیں ملا، لیکن انہوں نے اپنی تربیت کے دوران جنگ کے تمام اصول سیکھے اور جب بھی موقع ملا، اپنی شجاعت کا مظاہرہ کیا۔


بی بی زینب سلام اللہ علیہا کا حضرت عباس پر اعتماد

حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا کو حضرت عباس علیہ السلام پر بے حد اعتماد تھا۔ جب بھی کسی معاملے میں تحفظ یا دفاع کی ضرورت پیش آتی، حضرت عباس علیہ السلام کو آگے بڑھایا جاتا۔ بی بی زینب سلام اللہ علیہا جانتی تھیں کہ ان کے بھائی عباس، غیر متزلزل عزم کے ساتھ خاندان کا دفاع کریں گے۔ کربلا میں بھی حضرت عباس علیہ السلام پر تمام اہلِ حرم کو مکمل بھروسہ تھا۔


حضرت عباس علیہ السلام کی وفاداری

حضرت عباس علیہ السلام کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی غیر متزلزل وفاداری تھی۔ آپ نے امام حسین علیہ السلام کے ہر حکم کو سر آنکھوں پر رکھا اور اپنی جان سے زیادہ امام اور اہل بیت علیہم السلام کی حفاظت کو ترجیح دی۔


واقعہ کربلا میں حضرت عباس علیہ السلام کا کردار


مشکِ سکینہ اور وفاداری کی انتہا

جب اہل بیت علیہم السلام کے خیموں میں پانی ختم ہو گیا، تو بچوں کی پیاس شدت اختیار کر گئی۔ حضرت عباس علیہ السلام امام حسین علیہ السلام کے حکم پر پانی لینے کے لیے فرات کی طرف روانہ ہوئے۔ دشمن کی بھاری فوج کے باوجود، آپ نے نہر فرات پر پہنچ کر مشک کو پانی سے بھر لیا۔ مگر جب پانی پینے لگے، تو امام حسین علیہ السلام کی پیاس یاد آ گئی اور آپ نے پانی نہیں پیا۔


یزیدی لشکر سے مقابلہ

حضرت عباس علیہ السلام نے دشمن کے کئی سپاہیوں کو اپنی تلوار سے واصل جہنم کیا، لیکن دشمن کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ آپ نے اپنی بہادری سے دشمنوں کو لرزا دیا، مگر ایک بزدلانہ وار کے نتیجے میں آپ کے دائیں بازو کو کاٹ دیا گیا۔ پھر بھی، آپ نے پانی کی مشک کو زمین پر گرنے نہیں دیا اور بائیں ہاتھ سے اسے تھامے رکھا۔


شہادت اور آخری الفاظ

حضرت عباس علیہ السلام جب پانی لے کر واپس لوٹ رہے تھے، تو دشمنوں نے آپ پر حملہ کر دیا۔ ایک کے بعد ایک وار سے آپ کے دونوں بازو قلم کر دیے گئے، لیکن آپ نے مشک کو گرنے نہیں دیا۔ آخر کار، جب مشک بھی زخمی ہو گئی اور پانی بہہ گیا، تو آپ نے امام حسین علیہ السلام کو پکارا۔ امام حسین علیہ السلام آپ کے پاس پہنچے، اور آپ نے فرمایا: "مولا! میرا آخری سلام قبول کیجیے۔ میں چاہتا تھا کہ سکینہ سلام اللہ علیہا تک پانی پہنچے، مگر کامیاب نہ ہو سکا۔" امام حسین علیہ السلام نے آپ کے سر کو اپنی گود میں رکھا اور اشک بار ہو گئے۔


حضرت عباس علیہ السلام کی فضیلت

آپ "باب الحوائج" کہلاتے ہیں، یعنی حاجتیں پوری کرنے والے، کیونکہ اللہ کے نزدیک آپ کی وفاداری اور قربانی کا خاص مقام ہے۔ دنیا بھر میں لوگ آپ کے وسیلے سے دعائیں مانگتے ہیں اور ان کی حاجتیں پوری ہوتی ہیں۔


حضرت عباس علیہ السلام کا مزار

آپ کا مزار مبارک عراق کے شہر کربلا میں واقع ہے، جہاں لاکھوں عقیدت مند زیارت کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ آپ کی قبر مقدس کی زیارت کرنے والے اپنی حاجتوں کی قبولیت کے لیے دعا کرتے ہیں۔


نتیجہ

حضرت عباس علمدار علیہ السلام کی پوری زندگی وفا، صبر، قربانی اور شجاعت کی ایک عظیم مثال ہے۔ انہوں نے اپنے امام کے لیے وہ سب کچھ قربان کر دیا جو ممکن تھا۔ ان کی وفاداری ہمیشہ کے لیے تاریخ میں ایک روشن مثال کے طور پر قائم رہے گی۔



Comments

Popular posts from this blog

غدیر خم: من کنت مولاہ فہٰذا علی مولاہ – ولایت علیؑ کا الٰہی اعلان

19 رمضان: حضرت علیؑ کی شہادت، مسجد کوفہ کا المناک واقعہ || حضرت علیؑ پر حملہ اور شہادت کی مکمل تفصیلات

حضرت اویس قرنیؒ: عشقِ رسولؐ، ولایت اور شہادت کا روشن چراغ